Extremism in Religion, Self-Made Hardship, and Rejecting the Halal Blessings of Life Introduction Some people think that being more religious means staying away from every good thing in life. They think a religious person should not eat good food, wear good clothes, rest properly, enjoy family life, do business, earn wealth, or live comfortably. But this is not the true teaching of Islam. Islam does not teach uncontrolled love of the world. It also does not teach hatred of the world. Islam teaches balance, gratitude, halal living, responsibility, and preparation for the Hereafter . Islam does not say: “Leave the world completely.” Islam says: “Use the world in a way that pleases Allah.” Allah Wants Ease, Not Hardship Allah says in the Quran: ﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ Translation: “Allah intends for you ease and does not intend for you hardship.” Reference: Surah Al-Baqarah 2:185 This verse shows that Islam is based on ease, mercy, and bala...
المشاركات
- الحصول على الرابط
- X
- بريد إلكتروني
- التطبيقات الأخرى
غلو فی الدین، خود ساختہ سختی، اور دنیا کی جائز نعمتوں سے محرومی تمہید بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ دین دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا کی ہر اچھی چیز سے دور ہو جائے، اچھا کھانا نہ کھائے، اچھا لباس نہ پہنے، آرام نہ کرے، خاندان اور معاشرے سے کٹ جائے، کاروبار اور ترقی کو برا سمجھے، اور اپنی زندگی کو مسلسل سختی اور محرومی میں گزارے۔ لیکن اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے۔ اسلام نہ بے لگام دنیا پرستی سکھاتا ہے، نہ دنیا سے مکمل نفرت۔ اسلام کا راستہ اعتدال، توازن، شکر، حلال، ذمہ داری اور آخرت کی تیاری کا راستہ ہے۔ اسلام ہمیں یہ نہیں کہتا کہ دنیا کو چھوڑ دو، بلکہ یہ کہتا ہے: دنیا کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرو۔ اللہ آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ “اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، اور تمہارے لیے سختی نہیں چاہتا۔” (سورۃ البقرۃ: 185) یہ آیت بتاتی ہے کہ دین کا مزاج آسانی، رحمت اور توازن ہے۔ اسلام انسان کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنے کے لیے نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ﴿طه مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْ...
اجتياز الأزمة الأخلاقية: دعوة للعمل الجماعي
- الحصول على الرابط
- X
- بريد إلكتروني
- التطبيقات الأخرى
ا جتياز الأزمة الأخلاقية: دعوة للعمل الجماعي في عالم اليوم، نقف على مفترق طرق نواجه فيه أزمة أخلاقية وسلوكية تهدد نسيج مجتمعنا ذاته . هذه الأزمة ليست مجرد حوادث معزولة؛ إنها قضية منتشرة لها عواقب بعيدة المدى . لقد حان الوقت لمواجهة هذا التحدي وجهاً لوجه، وإدراك خطورته واتخاذ إجراءات حاسمة . أعراض مرض أعمق يشهد مجتمعنا ارتفاعًا في الشكاوى والسخط، مما يعكس تدهور القيم الأخلاقية وزيادة السلوكيات السلبية . تعمل منصات التواصل الاجتماعي، بطبيعتها الفوضوية والمجزأة، كمكبرات، وتؤجج الشعور بالوحدة والسلبية . ترسم الإحصائيات صورة مقلقة : ملايين الحسابات النشطة على وسائل التواصل الاجتماعي، وعدد كبير من الحسابات المزيفة، وكلها تساهم في نشر الشائعات وخطاب الكراهية وغيرها من الأمراض الاجتماعية . التأثير على الأفراد والمجتمع تقوض هذه الأزمة أسس المجتمع . تتراجع الثقة والروابط الأسرية والتفاعلات الاجتماعية الإيجابية، لتحل محلها السلبية والوحدة وحتى العنف . تتلاشى القيم التقليدية مثل الرضا واحترام الذات والنزاهة، لتحل محلها الكراهية والنفاق والانتهازية . إلى ما وراء الحلول السهلة قد...
اخلاقی بحران اور ہماری ذمہ داری: متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں
- الحصول على الرابط
- X
- بريد إلكتروني
- التطبيقات الأخرى
اخلاقی بحران اور ہماری ذمہ داری: متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں دنیا میں ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں ایک اخلاقی اور سماجی رویے کے بحران کا سامنا ہے جو ہمارے معاشرے کی بنیاد کو ہی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یہ بحران صرف الگ الگ واقعات کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ دور رس نتائج کے ساتھ ایک وسیع مسئلہ ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے، اس کی سنگینی کو تسلیم کرنے اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کا وقت آگیا ہے۔ گہری پریشانی کی علامات ہمارا معاشرہ شکایات اور عدم اطمینان میں اضافے کا مشاہدہ کر رہا ہے، جو اخلاقی اقدار میں کمی اور منفی رویوں میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ اپنی انتشار اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی نوعیت کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نفرت اور علیحدگی کو ہوا دینے والے بڑھاوا دینے کا کام کرتے ہیں۔ اعداد و شمار ایک پریشان کن تصویر پیش کرتے ہیں : کروڑوں فعال سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بڑی تعداد میں جعلی پروفائلز، یہ سب افواہوں، نفرت انگیز تقریروں اور دیگر سماجی برائیوں کو پھیلانے میں مددگار ہیں۔ افراد اور معاشرے پر اثر یہ بحران معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ اعتماد، خاندانی رشتے اور مثبت...
A Moral and Behavioral Crisis Grips Society: Can We Find a Way Out?
- الحصول على الرابط
- X
- بريد إلكتروني
- التطبيقات الأخرى
A Moral and Behavioral Crisis Grips Society: Can We Find a Way Out? Our society faces a growing challenge: a moral and behavioral crisis that threatens the very fabric of our communities. This crisis isn't simply a matter of isolated incidents; it's a pervasive issue with far-reaching consequences. Symptoms of a Deeper Problem: Complaints and dissatisfaction are rampant, pointing to a decline in ethical values and a rise in negative behaviors. Social media platforms, with their chaotic and fragmented nature, act as amplifiers, fueling alienation and negativity. Statistics paint a worrying picture: millions of active social media accounts, a significant number of fake profiles, all contributing to the spread of rumors, hate speech, and other social ills. Impact on Individuals and Society: The crisis undermines the foundations of society. Trust, family bonds, and positive social interactions are all weakening, replaced by negativity, alienation, and even violence. Tra...